بوسٹن: سائنس دانوں نے مشرقی ایشیاء کے درختوں سے بنائی گئی ایک دوا کا تجربہ کیا ہے جو دو مہینوں میں تمباکو نوشی کرنے والے ایک تہائی افراد کو یہ عادت ترک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

آزمائش میں دیکھا گیا کہ روزمرہ کے استعمال کی گولی سائٹیسِنیکلین نے سیگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو ساڑھے پانچ ماہ تک سیگریٹ سے کنارہ کش رکھا۔

محققین کی جانب سے یہ نتائج سیگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے انتہائی مقبول حربے برقی سیگریٹ کے حوالے سے حفظانِ صحت کے متعلق تحفظات اٹھنے کے دوران سامنے آئے ہیں۔

سائٹیسِنیکلین مشرقی یورپی ممالک میں تمباکو نوشی سے چھٹکارہ پانے کے لیے 1980 کی دہائی سے استعمال کی جا رہی ہے۔ اس دوا کو مشرقی ایشیاء کے ایک مقامی پھول دار پودے گولڈن رین درخت سے بنایا جاتا ہے۔ یہ دوا نِکوٹین پر ردِ عمل دینے والے دماغ کے ریسیپٹر خلیوں پر اثر کرتی ہے، سیگریٹ کی طلب کو کم کرتی ہے اور ترک کرنے میں مدد دیتی ہے۔

میساچوسیٹس جنرل ہاسپٹل کے ٹوبیکو ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹر کی جانب سے کی جانے والی نئی تحقیق میں اس دوا کو تمباکو نوشی کرنے والے ایسے 810 افراد پر آزمایا گیا جو یہ عادت ترک کرنا چاہتے تھے۔ ان افراد پر کی جانے والی آزمائش کے نتائج کا موازنہ اس گروپ سے کیا گیا جس کو نقلی دوا اور مشورے دیے گئے تھے۔

تحقیق میں شریک افراد کو روزانہ تین بار تین ملی گرام کی ایک گولی کھلائی گئی۔ ایک گروپ نے چھ ہفتوں تک یہ گولی کھائی جبکہ دوسرے گروپ نے 12 ہفتوں تک یہ عمل جاری رکھا۔ چھ ہفتوں تک دوا لینے والے گروپ میں ہر چار میں سے ایک شخص نے مکمل طور پر سیگریٹ نوشی ترک کردی جبکہ پلیسیبو (فرضی دوا) کھانے والے گروپ میں ہر 20 میں سے ایک شخص نے سیگریٹ نوشی ترک کی۔

12 ہفتوں تک گولی کھانے والے گروپ میں ایک تہائی افراد نے تمباکو نوشی ترک کی جبکہ اتنے عرصے تک پلیسیبو کھانے والے گروپ میں اوسطاً 10 میں تقریباً ایک شخص نے یہ عادت ترک کی۔ تقریباً تین ماہ کے عرصے کے بعد 20 فی صد افراد سیگریٹ نوشی ترک کر چکے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں