سری لنکا کے شہر کینڈی میں ایشیا کپ کے تیسرے میچ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ٹاکرے میں بارش جیت گئی ہے اور میچ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستان کو جیت کے لیے 267 رنز کا ہدف دیا تھا۔تاہم میچ کے آغاز سے قبل ہی موسم ابر آلود تھا اور بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس سے قبل یکم ستمبر کی پیشگوئی میں ویدر ڈاٹ کام نے سنیچر کو پالیکیلے میں 84 فیصد اور ایکو ویدر نے 85 فیصد بارش کا امکان ظاہر کیا تھا۔میچ سے قبل بھی ہلکی بارش کے باعث گراؤنڈ کو کوّرز سے ڈھانپ دیا گیا تھا مگر آسمان صاف ہونے پر کوّرز ہٹا دیے گئے۔ انڈین اننگز کے دوران بھی بارش کے باعث کھیل کو دو بار روکا گیا تھا۔
انڈین اننگز کے اختتام کے ساتھ ہی بارش دوبارہ شروع ہونے اور گراؤنڈ گیلا ہونے کی وجہ سے میچ تاخیر کا شکار ہوا تاہم کھیل میں ایک گھنٹے سے زائد وقت کا ضائع ہونے کی وجہ سے پاکستانی اننگز کے لیے میچ کے کم از کم مطلوبہ اوورز کا دورانیہ نہ ہونے کے باعث میچ کو منسوخ کر دیا گیا۔
جس کے بعد دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان انڈیا کے ساتھ ایک ایک پوائنٹ شیئر کرنے کے بعد سپر فور مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔
اس سے قبل انڈین ٹیم 48 اعشاریہ پانچ اوورز میں 266 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ میچ کے آخری آٹھ اوورز میں پاکستان کے پیسرز نے شاندار کم بیک کیا اور انڈین بیٹنگ لائن کو بڑا سکور بنانے سے روکنے میں کامیاب ہوئے۔پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ نے پیس اٹیک کا آغاز کیا اور چار اوورز تک انڈین اوپنرز پر دباؤ بنائے رکھا۔تاہم اس موقع پر بارش کے باعث کھیل کو آدھے گھنٹے سے زائد تک روک دیا۔
کھیل کے دوبارہ آغاز پر شاہین آفریدی زیادہ بہتر ردھم میں نظر آئے اور تیسری ہی گیند پر انھوں نے انڈین کپتان روہت شرما کو بولڈ کر دیا۔

جس کے بعد شاہین آفریدی نے انڈین بیٹنگ پر اپنا دباؤ مزید بڑھا دیا اور اپنے اگلے ہی اوور کی تیسری گیند پر ویراٹ کوہلی کو بولڈ کر کے اپنی ٹیم کو دوسری کامیاب دلائی۔ روہت شرما 15 جبکہ ویراٹ کوہلی صرف چار رنز ہی بنا سکے۔
اس کے بعد پاکستان کے کپتان بابر اعظم حارث رؤف کو بولنگ کے لیے لے کر آئے تو انڈین بلے باز شریاس آئیر نے ان کا استقبال دو چوکے لگا کر کیا لیکن اگلے اوور میں حارث نے ان کا حساب چکتا کتے ہوئے انھیں پویلین کی راہ دکھا دی۔ اس موقع پر انڈین ٹیم 10 اوورز میں 48 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی۔
انڈین بیٹسمین شبمن گل اپنی مختصر اننگز کے دوران پاکستانی پیسرز کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے اور بالآخر وہ دس رنز بنا کر حارث رؤف کا شکار ہوئے۔
اس موقع پر انڈین ٹیم 66 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکی تھی۔
تاہم نوجوان انڈین بلے باز ایشان کشن نے دوسرے اینڈ سے ذمے دارانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور ہاردک پانڈیا کے ساتھ 138 رنز کی شراکت داری بنانے میں کامیاب رہے۔
نوجوان بلے باز ایشان کشن نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 54 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، ان کی اننگز میں سات چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
لیکن حارث رؤف نے ایک مرتبہ پھر ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے ایشان کشن کو چلتا کر دیا جنھوں نے 82 رنز کی اننگز کھیلی۔
ہاردک پانڈیا نے دوسرے اینڈ سے دھواں دھار بیٹنگ جاری رکھی اور حارث رؤف کو ایک اوور میں تین چوکے لگائے جس سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری بنانے میں کامیاب رہیں گے لیکن شاہین شاہ آفریدی نے 87 رنز پر ان کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔
ان کے بعد روایندرا جدیجا سے بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے اور صرف 14 رنز بنا کر چلتے بنے جبکہ اگلے اوور کی پہلی ہی گیند پر نسیم شاہ نے شردل ٹھاکر کا بھی کام تمام کردیا۔
کلدیپ یادو اور جسپریت بمراہ نے سکور کو 261 تک پہنچایا لیکن اس سکور پر کلدیپ وکٹ کیپر کو کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔
جبکہ بمراہ نے مزاحمت جاری رکھتے ہوئے نسیم شاہ کو چوکا لگایا اور اگلی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں وہ باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھے۔
انڈیا کی پوری ٹیم 266 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے چار جبکہ حارث رؤف اور نسیم شاہ نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
ٹاس کے بعد روہت شرما نے کہا تھا کہ ٹیم میں جسپریت بمرا، شریاس ایئر، ہاردک پانڈیا، شاردل ٹھاکر، کلدیپ یادیو اور رویندر جڈیجا کو شامل کیا گیا ہے۔
ٹاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے بتایا کہ وہ بھی ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا چاہتے تھے۔ بابر نے بتایا کہ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے گذشتہ ماہ سری لنکا میں کافی کرکٹ کھیلی ہے تو وہ یہاں کی کنڈیشنز سے واقف ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں