ایشیاکپ سپر فور مرحلے کے اہم میچ میں سری لنکا دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دے کر ایونٹ کے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اتوار کو اسکا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔

بارش سے متاثرہ اس میچ میں پاکستان کا دیا گیا 252 رنز کا ہدف سری لنکا نے آخری اوور کی آخری گیند پر حاصل کیا۔

کولمبو کے پریماداسا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں سری لنکا نے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کا جارحانہ انداز اپنایا، تاہم 20 کے مجموعے پر شاداب کی ڈائریکٹ تھرو نے کوشل پریرا کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے 17 رنز کی اننگز کھیلی۔

دوسری وکٹ پر کوشل مینڈس اور پاتھم نسانکا کے درمیان 57 رنز کی پارٹنرشپ بنی جس نے سری لنکن ٹیمکے اسکور کو 77 کے مجموعے تک پہنچایا۔

یہاں شاداب خان ایک مرتبہ ہیرو ثابت ہوئے جنہوں نے پاتھم نسانکا کا اپنی ہی گیند پر کیچ کرکے انکی اننگز کا خاتمہ کیا۔

تاہم تیسری وکٹ سماراوکراما اور کوشل مینڈس کے درمیان 100 رنز کی پارٹنرشپ نے میچ کو پاکستان سے دور کرنے میں کلیدی کردار نبھایا۔

177 کے مجموعے پر سمارا وکراما افتخار احمد کی گیند پر 48 رنز بنا کر اسٹمپ آؤٹ ہوئے۔

افتخار احمد نے ہی سری لنکا کی چوتھی وکٹ بھی لی جب 91 رنز بنانے والے کوشل مینڈس محمد حارث کو کیچ دے بیٹھے۔

سری لنکا کی پانچویں وکٹ بھی افتخار احمد نے لی جب 222 کے مجموعے پر سری لنکن کپتان داسن شناکا کو کیچ آؤٹ کروایا۔

میچ اس وقت مزید دلچسپ ہوگیا جب شاہین آفریدی نے 41ویں اوور میں یکے بعد دیگرے دو کھلاڑیوں کو پویلین لوٹایا۔

آخری اوور میں سری لنکا کو جیت کےلیے جب 8 رنز درکار تھے تو ایسے میں سری لنکن کھلاڑی خوشقسمت رہے اور آخری گیند پر درکار دو رنز لے کر میچ جیتنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان کی جانب سے افتخار احمد نے 3، شاہین آفریدی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاداب خان نے ایک وکٹ لی۔

اس سے قبل کیپر بیٹر محمد رضوان اور افتخار احمد کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے سری لنکا کو جیت کیلئے 252 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستان نے بارش سے متاثرہ میچ میں مقررہ 42 اوورز میں 7 وکٹوں پر 252 رنز بنائے، جس میں محمد رضوان کے 73 گیندوں پر ناقابل شکست 86 رنز شامل ہیں۔ وکٹ کیپر بیٹر کی اننگز میں 2 چھکے اور 6 چوکے شامل ہیں۔

عبداللّٰہ شفیق 52 اور افتخار احمد 47 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

کولمبو کے پریما داسا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی اوپنرز نے ایک مرتبہ پھر دفاعی حکمت عملی کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا، تاہم سری لنکن بولر پرامود مدوشن پاکستانی دفاعی حکمت عملی توڑنے میں کامیاب رہے اور 9 کے مجموعے پر 4 رنز بنانے والے فخر زمان کو کلین بولڈ کردیا۔
اوپنر عبداللّٰہ شفیق اور کپتان بابر اعظم کے درمیان 70 گیندوں پر 64 رنز کی پارٹنرشپ بنی، تاہم بھارت کے خلاف پانچ وکٹیں لینے والے ویلالاگے نے بابر اعظم کو اسٹمپ آؤٹ کروادیا۔ انہوں نے 35 گیندوں پر 29 رنز بنائے۔

تیسری وکٹ پر عبداللّٰہ شفیق اور محمد رضوان نے ٹیم کے لیے 27 رنز جوڑے۔ عبداللّٰہ شفیق نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

عبداللّٰہ 52 رنز کی اننگز کھیل کر 100 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے، انہیں پتھیرانا نے کیچ آؤٹ کروایا۔

پاکستان کا اسکور 8 رنز آگے بڑھا تھا کہ محمد حارث پریتھانا کی گیند پر انہیں کیچ دے بیٹھے۔ حارث نے صرف 3 رنز بنائے۔

پانچویں آؤٹ ہونے والے بیٹر محمد نواز تھے، جنہیں مہیش تھیکشانا نے 130 کے مجموعے پر کلین بولڈ کیا۔ انہوں نے 12 رنز بنائے۔

اس موقع پر بارش کے باعث میچ روک دیا گیا۔ تاہم میچ کے بعد اوورز کی مزید کٹوتی کردی گئی اور میچ کو 42، 42 اوورز فی اننگز تک محدود کردیا گیا۔

بارش کے بعد محمد رضوان اور افتخار احمد نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا جہاں رضوان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جبکہ پاکستان نے 38ویں اوور میں 200 رنز مکمل کیے۔

افتخار احمد آخری اوور میں 47 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد رضوان 86 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔

پاکستان نے مقررہ 42 اوورز میں 252 رنز بنائے، تاہم ڈی ایل ایس ایڈجسٹمنٹ کے بعد سری لنکا کو جیت کےلیے 252 رنز کا ہی ہدف ملا تھا۔

سری لنکا کی جانب سے متھیشا پتھیرانا نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پروامود مدوشن نے دو جبکہ مہیش تھیکشنا اور دونتھ ویلالاگے نے ایک ایک وکٹ لی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں